Karachi – Pakistan, originally uploaded by babasteve.
January 24, 2008 at 11:31 pm (Uncategorized)
Karachi – Pakistan, originally uploaded by babasteve.
January 24, 2008 at 11:26 pm (International Politics)
اسرائیل لابی نوم چومسکی ZNet، 28 مارچ 2006 مجھے لندن کتابوں پر تبصرہ میں شائع ہونے والے جان میئر شائیمر اور اسٹیفن والٹ (میئر اور والٹ) کے مضمون پر رائے دینے کی بہت سی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جو کہ انٹرنیٹ پر وسیع پیمانے پر گردش کررہا ہے اور اس نے اختلاف رائے کا ایک طوفان بپا کردیا ہے۔ اس مسئلے پر چند افکار مندرجہ ذیل ہیں: جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، یہ ایسے معاملات پر بحث کیلئے امریکی جرائد کے مقابلے میں کہیں آزاد لندن کتابوں پر تبصرہ میں شائع ہوا — جو میئر اور والٹ کے بقول “لابی” کے مبینہ اثر سے متعلقہ معاملہ (جس پر میں بعد میں بات کروں گا) ہے۔ یہودی جریدے فارورڈ میں شائع ہونے والا ایک مضمون میئر کے حوالے سے کہتا ہے کہ اس مضمون کو ایک امریکی جریدے نے تفویض کیا تھا لیکن پھر اسے مسترد کردیا گیا اور یہ کہ “اسرائیل نواز لابی اس قدر طاقتور ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی مصنف اسٹیفن والٹ امریکا میں موجود کسی سائنسی اشاعت میں اپنی رپورٹ شائع نہیں کرا سکتے تھے۔” لیکن انگلستان میں چھپنے کی حقیقت کے باوجود، میئر اور والٹ کے مضمون نے یہاں ریاستی تشدد کے روایتی حمایتیوں، وال اسٹریٹ جرنل سے لے کر ایلن ڈرشووٹز تک، کی جانب سے متوقع انتہائی جذباتی ردعمل کو ابھارا، بعض مرتبہ ایسے کہ اگر مصنفین ایوان اقتدار کی صفوں (جیسا کہ دستور ہے) میں شامل نہ ہوئے تو انہیں فوراً تضحیک کا نشانہ بنایا جائے گا۔ میئر اور والٹ ایسا مؤقف اختیار کرنے پر لائق تحسین ہیں جو یقینی طور پر غیض و غضب اور انتہا پرستانہ جھوٹ اور دشنام طرازی کو ابھارے گا لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ اس میں کوئی غیر معمولی چیز نہیں ہے۔ کوئی بھی موضوع اٹھا لیں جو “آزاد ذہنوں کے ریوڑ” (ہیرولڈ روزنبرگ کے دانشوروں کے بیان سے مستعار لیتے ہوئے) میں صحیفہ مقدس تک جا پہنچا ہو : مثال کے طور پر، جنگ بلقان سے متعلق کوئی چیز جس نے الف سعادت کے اختتام پر، حتٰی کہ تاریخی نظیروں سے بھی آگے جاتے ہوئے، دانشوارانہ استدلال کا حلیہ بگاڑنے والی خود ستائشی کی غیر معمولی مہموں میں ایک بہت بڑا کردار ادا کیا جو انتہائی بدنما ہیں۔ فطری طور پر، ریوڑ کیلئے اپنے بیشتر پر فریب اور جھوٹ پر مبنی تصور کا تحفظ غیر معمولی حد تک اہم ہے۔ لہٰذا، سادہ (غیر متنازعہ، یقیناً متعلقہ) حقائق کو سامنے لانے کی کسی کوشش کو یا تو نظر انداز (میئر اور والٹ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا) کر دیا جاتا ہے یا وہ انتہائی متاثر کن غیض و غضب، تہمتوں، من گھڑت باتوں اور فریب اور دیگر ردعمل کی دعوت دیتا ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ بہت آسان ہے اور صرف ان معاملات تک ہی محدود نہیں ہے۔ وہ جو روایتی نظریے کے تنقیدی جائزے کے تجربے سے محروم ہیں انہیں مشرق وسطٰی کے مخصوص معاملے سے باآسانی گمراہ کیا جاسکتا ہے۔ میئر اور والٹ کے قابل تعریف جرأت مندانہ مؤقف کا اعتراف کرتے ہوئے ہمارا پھر بھی یہ سوال ہے کہ ان کا مقالہ کس قدر قائل کرنے والا ہے۔ میرے نزدیک، زیادہ نہیں۔ میں نے کسی اور جگہ اس بات کا جائزہ پیش کیا ہے کہ امریکہ کی مشرق وسطٰی پالیسی کے بنیادی ماخذین کا ریکارڈ (تاریخی اور دستاویزی دونوں)، گزشتہ 40 برسوں کی کتب اور مضامین، دیکھ کر میں کیا محسوس کرتا ہوں اور میں انہیں یہاں دہرانے کی کوشش نہیں کرسکتا۔ میرے خیال میں لابی کی طاقت کیلئے میئر اور والٹ کا مقدمہ اتنا ہی اچھا ہے جو کسی کا ہوسکتا ہے، لیکن میرا نہیں خیال کہ یہ مجھے ہمیشہ نظر آنے والی ایک بظاہر زیادہ معقول تشریح میں ترمیم کی کوئی وجہ فراہم کرتا ہے۔ ضمنی طور پر غور کریں کہ ایک قدرے نازک معاملہ داؤ پر لگا ہوا ہے: مختلف عوامل کے اثر کا جائزہ جو (سب کے نزدیک) ریاستی پالیسی کا تعین کرنے میں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں: بالخصوص (A) مضبوط ریاستی-تجارتی ربط میں ملکی طاقت کے ارتکازات کے حکمت عملیانہ-اقتصادی مفادات، اور (B) لابی۔ میئر اور والٹ کے مقالے میں (B) کا تسلط حاوی ہے۔ مقالے کو پرکھنے کیلئے، ہمیں دو کافی مختلف معاملات میں امتیاز برتنا پڑے گا جنہیں وہ خلط ملط کرنے کی جانب مائل ہیں: (1) امریکا کی مشرق وسطٰی پالیسی کی مبینہ ناکامیاں؛ (2) ان نتائج میں لابی کا کردار۔ جب تک لابی کے مؤقف (A) کے مطیع ہیں، دونوں عوامل کو ایک دوسرے سے جدا کرنا انتہائی دشوار امر ہے۔ اور اس میں کافی زیادہ اطاعت پائی جاتی ہے۔ آئیے (1) کو دیکھتے ہوئے نمایاں سوال پوچھتے ہیں: گزشتہ 60 برسوں سے پالیسی کس کیلئے ناکام رہی ہے؟ توانائی کا کارپوریشنوں کیلئے؟ بمشکل۔ “انہوں نے حرص کے تصورات سے بھی زیادہ منافع” کمایا ہے (جان بلیئر سے اقتباس جنہوں نے 70 کے عشرے میں اس صنعت میں اہم ترین حکومتی تحقیقات کی قیادت کی)، اور ابھی بھی کما رہی ہیں اور مشرق وسطٰی ان کی مستقل آمدنی کا ایک مرکزی وسیلہ ہے۔ کیا یہ امریکا کی اس کنٹرول پر مبنی عظیم حکمت عملی کی ناکامی رہی ہے جسے 60 برس قبل امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے مشرق وسطٰی کے تیل کی “حکمت عملیانہ طاقت کا پرشکوہ ماخذ” اور اس لاثانی “مادی تحفے” سے حاصل ہونے والی لامحدود دولت کہا تھا۔ بمشکل۔ امریکا نے اپنا ٹھیک ٹھاک اثر و رسوخ برقرار رکھا ہے اور غیر معمولی دھچکے جیسا کہ شاہ کی معزولی لابی کے اقدامات کا نتیجہ نہیں تھے۔ اور جیسا کہ پہلے غور کیا گیا ہے، توانائی کی کارپوریشنوں نے خوشحالی کے ثمرات سمیٹے۔ مزید برآں، ان غیر معمولی کامیابیوں کو بہت سی رکاوٹوں پر قابو پانا پڑا: ابتداً، دنیا میں کسی اور جگہ کی طرح، جسے اندرونی دستاویزات “انتہا پسندانہ قوم پرستی” کا نام دیتی ہیں، اس سے مراد آزاد قوم پرستی ہے۔ دنیا میں کسی اور جگہ کی طرح، ان خدشات کو “سوویت یونین کے خلاف دفاع” جیسی اصطلاحات کی آڑ میں چھپانا آسان رہا ہے لیکن تحقیق پر یہ بہانہ عام طور پر فوری ناکام ہوجاتا ہے، نہ صرف مشرق وسطٰی بلکہ دیگر جگہوں پر بھی۔ اور درحقیقت دعوے کو ، دیوار برلن گرنے کے کچھ ہی عرصے بعد، سرکاری طور پر غلط تسلیم کیا گیا جب بش کی قومی سلامتی کی حکمت عملی (1990) نے مشرق وسطٰی پر مرکوز افواج برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جہاں “ہمارے مفادات کیلئے سنگین خطرات کو ۔۔ کریملن کے در پر قربان نہیں کیے جاسکتا” ۔۔۔ نے اب پہلے کی یکساں پالیسیاں جاری رکھنے کا بہانہ کھو دیا۔ اور یہی چیز کافی حد تک دنیا بھر میں صادق آتی تھی۔ یہ فوراً ہی میئر اور والٹ کے مقالے کے متعلق ایک اور سوال اٹھاتا ہے۔ وہ کون سی “لابیاں” تھیں جو دنیا بھر میں انتہائی مماثل پالیسیاں جاری رکھنے کی ذمہ دار تھیں؟ سال 1958 پر غور کریں، جو کہ عالمی امور میں ایک انتہائی اہم سال تھا۔ 1958 میں آئزن ہاور انتظامیہ نے امریکا کیلئے تین چیلنجوں کے طور پر مشرق وسطٰی، شمالی افریقہ اور انڈونیشیا کی نشاندہی کی — یہ سب تیل پیدا کرنے والے اسلامی ممالک تھے۔ الجزائر کی (باضابطہ) آزادی نے شمالی افریقہ کا مسئلہ حل کردیا۔ انڈونیشیا میں سوہارتو کی قتل و غارت گری (1965) اور مشرق وسطٰی میں اسرائیل کے ہاتھوں عرب لادینی قوم پرستی کی تباہی کے ذریعے نمٹ لیا گیا (ناصر، 1967)۔ مشرق وسطٰی میں، اس سے قریبی امریکی اسرائیلی اتحاد کا قیام عمل میں آیا اور 1958 میں امریکی انٹیلیجنس کے ایک فیصلے کی تصدیق ہوگئی کہ “انتہا پسندانہ قوم پرستی” (مراد لادینی آزاد قوم پرستی) کی مخالفت کا “منطقی نتیجہ” “اسرائیل کی حمایت” ہے جیسا کہ خطے میں ایک قابل اعتماد امریکی اڈہ (ترکی کے ساتھ، جس نے اسی برس اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرلیے)۔ سوہارتو کے فوجی انقلاب نے مکمل احساس مسرت جگا دیا اور وہ “اپنا ہی بندہ” رہا (جیسا کہ کلنٹن انتظامیہ نے اسے نام دیا) حتٰی کہ وہ 1998 میں اقتدار پر مزید کنٹرول برقرار نہ رکھ سکا، ایک مکروہ ریکارڈ کے ذریعے جو صدام حسین کے مقابلے میں بہتر ہے — وہ بھی “اپنا ہی بندہ” تھا یہاں تک کہ اس نے 1990 میں احکامات سے رو گردانی کی۔ انڈونیشیا لابی کیا تھی؟ صدام لابی؟ اور سوال دنیا کے گرد عمومی طور پر گھومتا ہے۔ جب تک ان سوالات کا جواب نہ ملے، معاملہ (1) کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ جب ہم (1) کی تحقیق کرتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ مشرق وسطٰی میں جاری امریکی پالیسیاں دنیا میں کسی اور جگہ کی پالیسیوں سے کافی مماثلت رکھتی ہیں اور بہت سی دشواریوں کے باوجود بھی غیر معمولی حد تک کامیاب رہی ہیں: کامیابی کی منصوبہ بندی کیلئے 60 برس ایک طویل مدت ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ بش دوم نے، نہ صرف مشرق وسطٰی بلکہ ہر جگہ، امریکی حیثیت کو کمزور کردیا ہے لیکن یہ ایک بالکل علیحدہ معاملہ ہے۔ یہ (2) پر منتج ہوتا ہے۔ جیسا کہ غور کیا گیا ہے، امریکی اسرائیلی اتحاد نے اس وقت تقویت پکڑی جب اسرائیل نے ملکی ضروریات کی جانب وسائل کا رخ موڑنے کی کوشش کرنے والے لادینی عرب قوم پرستی کے خطرے کو پاش پاش کرتے ہوئے امریکی، سعودی توانائی کمپنیوں کیلئے ایک بڑی خدمت سرانجام دی۔ اسی وقت لابی کو ایک زوردار تحریک ملی (عیسائی انجیلی عنصر کے علاوہ، اب تک کا بہت بڑا اور قابل اعتراض حد تک بارسوخ جزو، لیکن یہ زیادہ تر 90 کے عشرے میں ہوا ہے)۔ اور یہی وہ وقت ہے جب دانشوارانہ-سیاسی طبقے کا اسرائیل سے معاشقہ شروع ہوا، جس سے ماضی میں انہیں کم ہی دلچسپی تھی۔ وہ ذرائع ابلاغ، علمی حلقوں میں اپنے کردار کی وجہ سے لابی کا ایک انتہائی اثر و رسوخ والا جزو ہیں۔ اس مقام کے بعد “قومی مفاد” (لفظ کے حسب معمول منحرف لحاظ سے) کا لابی کے اثرات سے امتیاز دشوار ہوچلا ہے۔ میں نے کسی اور جگہ امریکا کیلئے اسرائیلی خدمات کا مختصر جائزہ پیش کیا ہے اور یہاں اس کا دوبارہ جائزہ نہیں لوں گا۔ میئر اور والٹ کا ارتکاز امریکا کی اسرائیل نواز لابی (AIPAC) اور انجیلی عیسائیت پر ہے لیکن وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ سیاسی دانشوروں کا بیشتر طبقہ بھی لابی میں شامل ہے — اس مقام پر مقالے کا بیشتر مواد دم توڑ دیتا ہے۔ انہوں نے شہادت کا انتہائی منتخب استعمال بھی کیا ہے (اور بہت سی شہادت اپنے اندر قطعیت لیے ہوئے ہے)۔ مثال کے طور پر چین کو اسلحہ کی فروخت ہی لے لیں، جسے وہ امریکی مفادات کو کمزور بنانے کی کوشش کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہ اس بات کا تذکرہ بھول جاتے ہیں کہ جب امریکا نے اس پر نکتہ چینی کی، تو اسرائیل اپنے وعدے سے منحرف ہوجانے پر مجبور ہوگیا: 2000 میں کلنٹن کی زیر صدارت اور دوبارہ 2005 میں، اس معاملے میں واشنگٹن کی نو قدامت پسندوں پر مشتمل حکومت نے تو خلاف معمول اسرائیل کو شرمسار بھی کیا۔ اس معاملے پر لابی کی جانب سے ہلکی سی آواز بھی بلند نہیں کی گئی اگرچہ یہ اسرائیل کیلئے ایک سنگین دھچکا تھا۔ اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں۔ اسرائیلی تاریخ کے بدترین جرم کو ہی لے لیں، اس نے 1982 میں لبنان پر حملہ کیا جس کا مقصد لادینی قوم پرست پی ایل او کی تباہی اور سیاسی تصفیے کیلئے اس کے خجالت آمیز مطالبات کے خاتمے اور ایک زیر کفالت میرونی حکومت کا قیام تھا۔ ریگن انتظامیہ نے بدترین مظالم کے دوران بھی حملے کی مکمل حمایت کی لیکن چند ماہ بعد (اگست)، جب مظالم نے اتنی شدت اختیار کرلی کہ بیروت میں مقیم نیویارک ٹائمز کے نامہ نگار تھامس فرائیڈمین کو بھی ان کی شکایت کرنا پڑی اور ان سے امریکی “قومی مفاد” کو زک پہنچنا شروع ہوگئی تو ریگن نے اسرائیل کو حملہ روکنے کا حکم دیا پھر لبنان سے پی ایل او کا خاتمہ مکمل کرنے کیلئے داخل ہوا، ایک ایسا نتیجہ جو اسرائیل اور امریکہ دونوں کیلئے انتہائی قابل ستائش (اور آزاد قوم پرستی کی عام امریکی مخالفت سے ہم آہنگ) تھا۔ اس کا نتیجہ مکمل طور پر امریکا اسرائیل کے حسب منشاء تو نہ تھا لیکن یہاں متعلقہ مشاہدہ یہ ہے کہ ریگن کے معتقدین نے اس وقت حملے اور مظالم کی حمایت کی جب یہ مؤقف “قومی مفاد” کیلئے سازگار تھا اور اس وقت اسے ختم کردیا جب یہ مزید سازگار نہ رہا (پھر وہ مرکزی کام ختم کرنے کیلئے داخل ہوگئے)۔ یہ کافی معمول کی چیز ہے۔ ایک اور مسئلہ جو میئر اور والٹ کی عدم توجہی کا شکار ہوا وہ توانائی کی کارپوریشنوں کا ہے۔ امریکی سیاسی زندگی میں ان سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا — بش انتظامیہ میں شفاف لیکن درحقیقت ہمیشہ سے۔ وہ لابی کے سامنے اتنے کمزور کیسے ہو سکتے ہیں؟ جیسا کہ مشرق وسطٰی کے عالم اسٹیفن زیونس نے درست جانب اشارہ کیا ہے، “خلیج فارس کے خطے میں ہونے والے واقعات سے امریکہ کی اسرائیل نواز لابی [یا عام طور پر لابی] کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور مفادات کو دلچسپی ہے، جیسا کہ تیل کی کمپنیاں، اسلحہ کی صنعت اور دیگر خصوصی مفادات جن کا اپنی لابیوں کے ذریعے اثر و رسوخ اور سیاسی مہم میں دیے جانے والے چندے لاف زن صیہونی لابی اور کانگریسی دوڑ میں عطیہ دینے والے اس کے اتحادیوں سے انتہائی سبقت لے جاتے ہیں۔” کیا توانائی کی کارپوریشنیں اپنے مفادات کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہیں، یا وہ بھی لابی کا جزو ہیں؟ اب تک، حاشیوں کے علاوہ (1) اور (2) کے درمیان کیا امتیاز ہے؟ ایک چیز کی دوبارہ وضاحت کی جاتی ہے کہ امریکا کی مشرق وسطٰی پالیسی اس کی دیگر جگہوں پر پالیسی سے کیوں مماثلت رکھتی ہے — جس میں اتفاق سے اسرائیل نے اہم کردار ادا کیا ہے، مثلاً انتظامیہ کو وسطی امریکا میں وسیع پیمانے پر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کیلئے کانگریسی رکاوٹوں سے گریز میں مدد دینا، جنوبی افریقہ اور رہوڈیشیا کے خلاف پابندیوں سے گریز، اور بہت کچھ۔ دوبارہ یہ سب (2) کو (1) سے جدا کرنا زیادہ دشوار بنا دیتا ہے — آخر الذکر، فطری طور پر، دنیا بھر میں کافی حد تک یکساں رہا ہے۔ میں دیگر دلائل کا مختصر جائزہ پیش نہیں کروں گا لیکن میرا نہیں خیال کہ معائنہ کرنے پر ان میں کوئی جان ہے۔ تاہم میئر اور والٹ کے پیش کردہ مقالے میں کافی کشش ہے۔ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اشرافیہ کی اوج ثریا، “ولسن کا فلسفہ تصوریت” وغیرہ، میں امریکی حکومت کو چھوئے بغیر گزر جاتا ہے، ، صرف ایک مکمل طاقتور قوت کی گرفت میں جس سے وہ بچ نہیں سکتا۔ یہ تو گزشتہ 60 برس کے جرائم کو “سرد جنگ کے مبالغہ آمیز سراب” سے منسوب کرنے کے مترادف ہے۔ یہ آسان ہے لیکن زیادہ قائل کرنے والا نہیں۔ کسی بھی صورت میں۔ ![]()