نیا انقلاب فرانس
یہ تھیچر کے احیائے برطانیہ کے بعد یورپ کی سب سے بڑی کایا پلٹنے کا آغاز ہوسکتا ہے۔
آپ فرانس میں تبدیلی کا اندازہ خطابات کے استعمال سے لگا سکتے ہیں۔ دس برس قبل، فرانسیسیوں نے امریکی “طاقت کاملہ” کے خلاف آواز احتجاج بلند کی تھی۔ انہوں نے دنیا سے اچاٹ نقادوں کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک جانب بیٹھ کر امریکی طاقت، قطعیت اور سرگرمی کو ہدف تنقید بنایا۔ آج فرانسیسی وہی خطاب استعمال کرتے ہوئے اپنے “صدر کاملہ”، نکولس سرکوزی، کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے اپنی طاقت، قطعیت اور سرگرمی سے تمام فرانس پر سحر طاری کر رکھا ہے۔ حتٰی کہ وہ اب تک کے انتہائی غیر معمولی چیلنج میں بھی کامیابی حاصل کرتے نظر آتے ہیں جو کہ ملک کی ہڑتالی ٹرانسپورٹ یونینوں سے مقابلہ ہے۔ اگر وہ اس میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں تو یہ 1980 کے عشرے میں مارگریٹ تھیچر کے احیائے برطانیہ کے بعد یورپ کی سب سے بڑی کایا پلٹنے کا آغاز ہوسکتا ہے۔
اپنے خلاف پائے جانے والے غلط تاثر کے برعکس، فرانسیسی معیشت کو مکمل بحالی کی ضرورت نہیں۔ اس میں بہت سے اعلٰی مسابقتی پہلو ہیں۔ حاصل محنت امریکہ ہی کی طرح بلند ہے، صحت کی دیکھ بھال کا نظام شاندار اور لاگت کے لحاظ سے سود مند ہے اور برق رفتار ریل سے لے کر براڈ بینڈ تک فرانسیسی بنیادی ڈھانچہ لاثانی ہے۔ لیکن فرانسیسی کارکنوں کو ضرورت سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے والا ایک مجموعہ قوانین معیشت کو سرطان کی طرح کھا رہا ہے جس کے تحت بھرتی اور برطرفی کٹھن اور پنشنیں اور فوائد انتہائی گراں بن جاتے ہیں۔ (یہی وجہ ہے کہ فرانس میں مستقل بنیادوں پر بے روزگاری کی بلند شرح ہے، فی الوقت 8.7 فی صد، جو کہ صنعتی اقوام کی اوسط سے 50 فی صد بلند ہے۔) اگر فرانس نے محنت کی لچک کے ذریعے اپنے مسائل حل کر لیے تو بلند نمو اور کم بے روزگاری کے باعث یہ پیش رفت کر سکتا ہے جس سے پورا نظام کہیں زیادہ پائیدار ہوجائے گا۔ فرانس کی آئندہ نسلیں طویل کھانے کے وقفوں اور لمبی تعطیلات سے پھر بھی مستفید ہوتی رہیں گی۔
سرکوزی نے اپنی لڑائی کا انتخاب دانش مندی سے کیا ہے۔ ان کی مجوزہ اصلاحات مقبول ہیں کیونکہ ان کا ہدف، فرانس کے ریلوے یونین کارکن، ان فوائد سے مستفید ہوتے ہیں جو فرانس کے دیگر شہریوں کیلئے قابل رشک ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے فوائد 50 برس کی عمر سے شروع ہو سکتے ہیں۔ ان کا تعین حکومت نے دخانی انجن کے زمانے میں کیا تھا جب متوقع عمر کافی کم تھی اور بیلچے سے کوئلہ انجن کے بوائلر میں ڈالنے کا کام زیادہ خطرناک تھا۔ دیگر سرکاری ملازمین کا خیال ہے کہ یہ لڑائی علامتی ہے۔ اگر سرکوزی اس مخصوص یونین کو توڑ لیں تو اس سے مزید اصلاحات کا ایک سیلاب آجائے گا۔ ان کا کہنا درست ہے۔
یونینیں پہلے بھی کئی مرتبہ جیت چکی ہیں۔ لوگ اب بھول چکے ہیں لیکن 1995 میں برسر اقتدار آنے والے، فرانسیسی سیاست دانوں میں سے قدامت پسند ترین، یاک شیراک نے فرانسیسی معیشت کی حالت بہتر بنانے کا پختہ عزم بہت سے انہی خطوط پر کیا تھا جو سرکوزی تجویز کررہے ہیں۔ ان کے تین وزرائے اعظم نے ان منصوبوں کو آگے بڑھایا، 1995میں ایلائن یوپے نے، 2003 میں ژان پیری رافارن نے اور 2005 میں ڈومینک ڈی ولاپاں نے۔ ہر بار انہیں کاروبار زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دینے والی ہڑتالوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں حکومت نے کچھ استقامت کا مظاہرہ کیا۔ “سڑکوں پر اظہار رائے کا حق ہونا چاہیے،” رافارن نے 2003 میں اعلان کیا، “لیکن سڑکوں پر اظہار رائے سمت متعین نہیں کر سکتا۔” لیکن حقیقت میں کچھ یوں ہی ہوا۔ تینوں مرتبہ، اصلاحات کے منصوبوں کو ترک کردیا گیا۔
سڑکوں پر اظہار رائے فرانس کی پانچویں جمہوریہ میں ایک عجیب عنصر ہے جو کہ نظام کا کافی مضبوط جزو ہے۔ چارلس ڈیگال نے ایک سیاسی نظام تخلیق کیا جسے اس نے ایک “منتخب بادشاہت” قرار دیا۔ صدارتی اختیارات پر چند ایک ہی قدغنیں ہیں۔ وزیراعظم کا عہدہ کلیدی صدارتی مشیروں سے غیر معمولی حد تک کم اہمیت کا حامل ہے اور پارلیمان ایک مذاق ہے۔ حقیقی مباحثہ، حزب اختلاف اور صدر کے اختیارات میں توازن سڑکوں پر اظہار رائے سے آتا ہے اور اس طرح یہ فرانسیسی انداز سیاست کا جزو بن چکا ہے، وہ جسے عوام جانتے اور تسلیم کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ صدر کا میلان اس حقیقت پر ہے کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور ایک دفعہ سڑکوں کے خلاف محل کا ساتھ دیں گے۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ ان کا سوچنے کا انداز درست ہے۔ عوامی ہمدردی ہڑتالیوں کے ساتھ نہیں ہے۔ سیاست میں ہر چیز موقع کی مناسبت سے ہوتی ہے اور نکولس سرکوزی کا سب سے بڑا امتیاز غالباً یہ ثابت کرسکتا ہے کہ ان کی آمد درست لمحے پر ہے۔
اگر وہ اس لڑائی کو جیت لیتے ہیں تو سرکوزی اصلاحات کے ایک سلسلے کو آگے بڑھائیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر منتج ہوگا۔ ان تبدیلیوں کا مجموعی اثر مثبت طرز فکر کی ایک لہر کی صورت میں نکل سکتا ہے جو کہ خود اپنی ذات میں ملکی معیشت کیلئے انتہائی مفید ہے۔ فرانس نئی عالمگیر معیشت پر برہمی کا اظہار کرنے کی بجائے آگے بڑھ کر اس کو گلے لگا لے گا۔
امریکن انٹرسٹ جریدے کی تازہ اشاعت کے ایک مضمون میں، بروکنگز کے اسکالر فلپ گورڈن لکھتے ہیں کہ سرکوزی فرانس کو دنیا میں ایک بڑا کھلاڑی بنا سکتے ہیں، “اپنی قد و قامت سے بڑے سے مقابلہ،” جس طرح ٹونی بلیئر نے 1990 کے عشرے اور 2000 کے ابتدائی برسوں میں کیا۔ بلیئر اور ان سے قبل تھیچر برطانیہ کا ایک نیا تصور تخلیق کرنے میں کامیاب رہے اور انہوں نے ملک کو ایک جدید عالمی قوت بنا دیا۔ لیکن اس تبدیلی کا دارومدار برطانوی معیشت کے احیاء پر تھا جو کہ عالمگیر زمانے میں کامیابی کی علامت بن گئی۔ فرانس عالمی اقتصادی فورم کی سالانہ مسابقتی درجہ بندی میں اس وقت 18ویں نمبر پر ہے۔ یہ اتنا برا نہیں لیکن یہ دور دور تک اس جگہ کے مطابق نہیں جو فرانسیسی دنیا میں اپنے لئے تصور کرتے ہیں۔
امریکی مبصرین سرکوزی کے امریکہ نواز خیالات اور بیانات سے خوش ہیں۔ لیکن یہ مشکل مرحلہ کبھی نہ تھا۔ فرانس درحقیقت اتنا بھی امریکہ مخالف نہیں۔ یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک وفادار اتحادی ہے۔ سرکوزی جو کچھ اب کررہے ہیں وہ سچ مچ دشوار ہے۔ اگر وہ کامیاب ہوجاتے ہیں، تو اس سے مراد نہ صرف ایک نیا فرانسیسی امریکی رشتہ بلکہ ایک نیا فرانس بھی ہوگا۔


