سراب

muntaq_logo_16.jpg  سراب

محمود احمدی نژاد کی انتخابی مہم کے دوران غریبوں سے ہر طرح کے وعدے کیے گئے۔ تو کیا ان کے خیال میں وہ انہیں پورا کر رہے ہیں؟ علی معظمی کا جنوبی تہران کے پسماندہ اضلاع کا دورہ۔

“یہ مسائل، معاملات ہمارے ہیں ۔۔۔ لیکن وہ انہیں سیاست کا نام دیتے ہیں۔’ میسری خاندان نے کاروبار میں سرمایہ کاری کی غرض سے جنوبی تہران کے نواح میں اپنا گھر فروخت کردیا جسے انہوں نے دو عشروں کی جدوجہد کے بعد خریدا تھا۔ وہ اس امید پر کرایہ دار بن گئے کہ ہوسکتا ہے میسری صاحب کارخانے کے مزدور کی بجائے اس طرح زیادہ کمالیں۔ 39 سالہ بیگم میسری نے مجھے بتایا: ‘کاروبار کے حالات بہت خراب ہیں۔ بازار چینی ساختہ ارزاں اشیاء سے بھرے پڑے ہیں ۔۔۔ ان کی آمدنی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ہمیں مختلف قرضوں کی ادائیگی کرنا ہے۔ ہمیں روز مرہ کی زندگی گزارنے میں مشکل کا سامنا ہے۔ میرے شوہر کے اعصاب رات کو جواب دے جاتے ہیں – وہ کہتے ہیں “کاش میں مر جاؤں”۔’

گزشتہ صدارتی انتخاب میں محمود احمدی نژاد کی کامیابی کا سہرا ایسے ہی محروم افراد کے معاشی حالات کو بہتر بنانے کے انتخابی وعدوں کے سر جاتا ہے۔ جب سے انہوں نے اقتدار سنبھالا ہے، ان وعدوں کا خلاصہ ایک گھر کی خریداری کیلئے 1 کروڑ تومان (تقریباً $10,000) قرضے اور ‘منصفانہ حصص’ کی صورت میں نکلا ہے۔ جنوبی تہران ہی کی ایک رہائشی 44 سالہ بیگم احمدی ہیں۔ ان کے بیٹے نے 1 کروڑ تومان کا گھر کا قرضہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے: ‘میرے بیٹے کے سسر معذور سابقہ فوجی ہیں اور حال ہی میں ان کا نام قرعہ اندازی میں نکلا لیکن آپ کو قرض کا اہل بننے کیلئے ایک نو تعمیر شدہ گھر خریدنا پڑتا ہے۔ اور جب گھر نیا ہو تو اس کی قیمت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ قرض کی رقم اس کیلئے ناکافی ثابت ہوتی ہے۔’ انتخاب کے بعد سے گھروں کی قیمتوں میں اضافے نے سرکاری قرضہ جات کی اہمیت گھٹا دی ہے کیونکہ جنوبی تہران میں پرانا گھر بھی $40,000 سے کم نہیں ملتا (تہران کے امیر شمالی حصے میں، اپارٹمنٹوں کی قیمت $8,000,000 تک پہنچ جاتی ہے)۔

‘منصفانہ حصص’ اسکیم میں سرکاری زیر انتظام کمپنیوں کے حصص غریبوں میں تقسیم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ایرانی ماہرین اقتصادیات کی تنقید کے باوجود، اسکیم بیشتر لوگوں کیلئے امید کی کرن بن چکی ہے۔ 70 سالہ غوربان علی صوبہ خراسان کے ایک گاؤں کے باشندے ہیں جہاں اس اسکیم پر آزمائشی بنیادوں پر کام ہورہا ہے اور وہ تہران میں اپنی اپنی بیٹی سے ملنے آئے ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے احمدی نژاد کو ووٹ دیا تھا۔ ‘ہم نے ابھی تک رقم جیسی چیز نہیں دیکھی! انہوں نے ہر فرد کو 500,000 تومان ($500) دینا تھے لیکن ہم نے اس کے بعد کچھ نہیں سنا۔’

غوربان علی ناخواندہ ہیں اور اسی لئے سرکاری ذرائع ابلاغ کی تشہیر ان کی نظر سے نہیں گزری۔ وہ اخبارات میں یہ پڑھنے سے قاصر ہیں کہ حصص کم منافع بخش سرکاری ملکیتی صنعتوں میں ہیں، وہ مفت ملنے کی بجائے ادائیگی کے متقاضی ہیں (البتہ طویل مدت میں رعایتی شرح پر) اور انہیں کم از کم چار برس تک فروخت نہیں کیا جاسکتا۔

غوربان علی بیمار اور لاچار ہیں اور سرکاری شعبے کے سب سے بڑے ریاستی خیراتی ادارے (قومی امداد امام خمینی (امام خمینی ریلیف کمیٹی) کی زیر نگرانی ہیں جو خط غربت سے نیچے تقریباًچالیس لاکھ افراد کو سماجی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ لیکن وہ قومی امداد کی پیش کردہ مدد سے مطمئن نہیں۔ انہیں 2005 میں خراسان میں آنے والے زلزلے کے بعد وعدہ کی گئی تزئین و آرائش کی گرانٹ تاحال نہیں ملی اور نوکر شاہی کی غفلت کے باعث انہیں اپنی صحت کی سہولیات سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔

غوربان علی سرکاری وعدوں پر عدم اعتماد کرنے میں تنہا نہیں۔ صدر احمدی نژاد حالیہ مہینوں میں افراط زر کی غیر معمولی شرح پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ سرکاری سطح پر افراط زر کا تخمینہ 12 فی صد کے قریب لگایا جاتا ہے لیکن غیر سرکاری تخمینے اسے دوگنا بتاتے ہیں۔ اس سے احمدی نژاد کے کئی سابقہ حمایتیوں کا جوش انتہائی ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔

54 سالہ بیگم سرھنگی جنوبی تہران کی ایک گارمنٹ فیکٹری میں کام کر کے معمولی گزر بسر کر رہی ہیں۔ ‘میں نے اپنے خاندان کی مخالفت کے باوجود احمدی نژاد کو ووٹ دیا تھا،’ انہوں نے بتایا۔ ‘میرا کہنا تھا کہ وہ باقیوں سے مختلف ہیں لیکن اب میں دیکھتی ہوں کہ کچھ بھی تو نہیں بدلا۔’ انہوں نے طنزیہ انداز میں مزید کہا: ‘احمدی نژاد کے نعرے میں محروم لوگوں کیلئے کچھ کرنے کا وعدہ تھا۔ انہوں نے محروم افراد کیلئے اتنا کچھ کردیا ہے کہ اب ہمیں 30 تومان میں ملنے والا انڈہ 100 تومان میں خریدنا پڑتا ہے!’ انہیں ایسے بہت سے وعدے یاد ہیں: ‘انقلاب کے آغاز سے ہی انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہمیں گھروں کی ملکیت دیں گے؛ 27 برس بعد ہم تاحال اس وعدے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔’

پولیس کا وحشیانہ پن

لوگوں کو ریاستی اداروں میں تشدد اور بدعنوانی سے نمٹنے کے وعدوں پر اسے سے بھی کم اعتماد ہے اور یہ مسائل جنوبی تہران کے گرد و نواح میں بالخصوص عام ہیں۔ بیگم محسنی کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں منشیات فروش، جن کے خلاف انہوں نے شکایات درج کرائی ہیں، اہلکاروں کو کھلم کھلا رشوت دیتے ہیں۔ دریں اثناء، بیگم میسری پولیس کے وحشیانہ پن کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں: ‘میں نے اکثر پولیس کی جانب سے نوجوانوں پر وحشیانہ تشدد کا مشاہدہ کیا ہے۔ ایک بار میرے اپنے بیٹے نے پرائمری اسکول سے گھر لوٹتے وقت ایک ہمسائے کو پولیس کے ہاتھوں پٹتے دیکھا؛ [میرا بیٹا] اتنا دہشت زدہ ہوگیا کہ رونے لگا۔ میرے منشیات کے عادی سگے بھائی  کو ایک رات گرفتار کرلیا گیا اور انہوں نے اس پر اتنا تشدد کیا کہ اس کے سر کی ہڈی چٹخ گئی۔

یہ صرف پولیس کی جارحیت ہی نہیں جو گراں گزرتی ہے بلکہ اسکول کے بچوں کو بھی روز مرہ بنیادوں پر مسلسل توہین اور جسمانی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں نے جتنی بھی خواتین کا انٹرویو کیا یا تو ان کا اپنا بچہ یا کوئی اور جاننے والا بچہ غیر مؤثر تدریس اور درشت ماحول سے مایوس ہو کر  اسکول سے بھاگ گیا۔ ان سب کا یہ خیال ہے کہ جنوبی تہران کے اسکول ناکافی تدریسی عملے کی غلاظت گاہ ہیں۔

‘احمدی نژاد کے نعرے میں محروم افراد کیلئے کچھ کرنے کا وعدہ تھا۔ انہوں نے محروم لوگوں کیلئے اتنا کچھ کردیا ہے کہ اب ہمیں 30 تومان میں ملنے والا انڈا 100 تومان میں خریدنا پڑتا ہے!’

تاہم شہر کے اس حصے میں تمام بچے اتنے خوش قسمت نہیں کہ ان کے والدین ان کی تعلیم کے متعلق فکر مند ہوں اور ان کیلئے امکانات روشن کرنے کے طریقے تلاش کریں۔ میں نے ایک بالغ نوجوان علی کا انٹرویو کیا جو  ردی کاغذ چنتا ہے اور اپنے گاہکوں کو فروخت کرنے کیلئے پلاسٹک یا ‘کسی کارآمد چیز’ کی تلاش میں شمال سے جنوب تک اس شہر کی خاک چھانتا پھرتا ہے۔ وہ اور اس کا چھوٹا بھائی موسم کے لحاظ سے دیگر بہت سے کام بھی کرتے ہیں۔ لیکن بہترین مہینوں میں بھی وہ 100,000 تومان (تقریباً $100) سے زیادہ نہیں کما پاتے۔

علی اپنے باپ کے متعلق بات کرنے سے گریزاں ہے جو کئی برسوں سے بیروزگار اور ہیروئن کے نشے کا عادی ہے۔ اس کا باپ کئی کئی دن تک گھر سے باہر نہیں نکلتا اور بعض اوقات انہیں دنوں تک اس کی خبر نہیں ہوتی۔ وہ اپنے بچوں اور اپنی بیوی کی قلیل آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں کرتا۔ اس کی بجائے، کئی مرتبہ وہ زبردستی ان سے پیسے ہتھیا لیتا ہے۔ علی جیسے بالغ نوجوانوں کو یا تو کبھی اسکول جانے کا موقع نہیں ملا یا انہیں اسے روزی کمانے، ردی کاغذ چننے، خوانچہ لگانے اور چوری چکاری کیلئے چھوٹی عمر میں ہی خیر آباد کہنا پڑتا ہے۔

مذہب کی اہمیت

جن لوگوں کا میں نے انٹرویو کیا وہ اپنی ‘خواہشات’ کے متعلق بات کرتے ہوئے ‘سماجی مسائل’ کے متعلق حکومت کے سرکاری بیان کا ذکر نہیں کرتے۔ میں نے انہیں بتایا کہ حکومتی نقطہ نظر سے ‘اسلام کا احساس’ اتنی ہی ترجیح ہے جتنا کہ مالی وعدے۔ ‘ہم سب مسلمان ہیں؛ کوئی بھی اسلام سے مایوس نہیں،’ بیگم سرھنگی نے کہا۔

دوسری جانب بیگم احمدی نے بتایا کہ ان کا ایک بیٹا ملازمت کی تلاش میں کافی خاک چھاننے کے بعد اس مرحلے پر پہنچا جہاں اسے ‘نظریاتی تقرری’ کا امتحان دینا تھا۔ ایک عام مسلمان کی حیثیت سے اس نے ایک مہینہ دینی نصاب کے مطالعے پر صرف کیا اور جب وہ امتحان میں ناکامی کے بعد واپس لوٹا تو اس نے بتایا کہ اس نے نصاب میں شامل مسائل کے متعلق اپنی پوری زندگی پڑھا سنا نہیں تھا۔

میں نے جنوب مغربی تہران کے شہر نعمت آباد میں ایک 38 سالہ خوانچہ فروش جہانگیر سے پوچھا کہ حکومت سے ان کی کیا توقعات ہیں۔ جہانگیر جنہوں نے احمدی نژاد کو ووٹ دیا تھا، مجھے بتایا: ‘انہیں بیروزگاری کے مسئلے پر قابو پانے کا منصوبہ لانا چاہیے۔’ اور کیا؟ ‘میری سب سے بڑی بیٹی 14 سال کی ہے ۔۔۔ ہمارے بچے کمپنی ڈائریکٹروں کے بچوں کو دیکھتے ہیں اور وہ ہم سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ ہم انہیں وہی چیزیں لا کر دیں جو ان کے بچوں کے پاس ہیں ۔۔۔ انہیں کچھ کرنا چاہیے تاکہ میرا بچہ بھی تعلیم جاری رکھ سکے۔’

میں نے انہیں بتایا کہ بعض افراد ‘اسلام کے نفاذ’ کی خواہش رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مکمل حجاب کی پاسداری نہ کرنے والوں کو روکا جائے۔ انہوں نے سختی سے جواب دیا: ‘ہاں آپ کو حجاب کرنا چاہیے۔۔۔ اگر کوئی حجاب کے بغیر آئے تو میری بیٹی اسے دیکھے گی اور اس کی نقل کرنا چاہے گی۔ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے۔’

میں نے یہی سوالات بیگم میسری سے کیے: ‘اسلام؟ میں اسلام کے نفاذ کے حامیوں سے پوچھنا چاہتی ہوں؛ آپ اس بات کی کیسے وضاحت کریں گے کہ آپ نے جو وعدے کیے وہ پورے نہ کیے؟ کیا اسلام کا مطلب بے ایمانی ہے؟’

نجکاری اور اقتدار

ان لوگوں کے خدشات معمولی ہوسکتے ہیں لیکن وہ انتہائی ‘سیاسی’ نوعیت کے ہیں اور سیاسی لحاظ سے سب سے اہم چیز روزگار کے معاملات کا ذہن پر چھایا ہونا ہے۔ مسعودی جو ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں، نے اس بارے میں مزید بتایا۔ ان کے حکومتی آجر نے ان کی یونین کی سرگرمیوں کے باعث انہیں ملازمت سے فارغ کردیا۔ ‘ملک میں حکومت سب سے بڑی آجر ہے  اور لوگوں کے روزگار کی شرائط متعین کرتی ہے۔۔۔ لیکن اب ہم نجکاری اور سرکاری ڈویژنوں کو کو آپریٹو میں تبدیل کرنے کے متعلق سن رہے ہیں۔ صرف یہی دیکھ لیں کہ تہران میں سرکاری طور پر چلنے والی ٹرانسپورٹ کو کیسے کو آپریٹو میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ ان نجی کو آپریٹو اداروں کے بانی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ٹرانسپورٹ اداروں کے حکام ہیں۔’

اس فوری فروخت کے نتیجے میں، نجی شعبے کی کئی کمپنیوں کی بسوں کی قیمتوں میں 500 فی صد سے بھی زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ مزید برآں، ایران کی اس مخصوص قسم کی نجکاری میں خلاف قیاس یہ چیز ہے کہ یہ نہ صرف عام لوگوں کیلئے مصیبت ہے، جیسا کہ عام طور پر ہر جگہ ہوتا ہے، بلکہ یہ برسر اقتدار امراء شاہی کی معاشی قوت کو بھی استحکام بخشتی ہے۔

اور یہ، بہرحال، اسلامی جمہوریہ کی سیاسی معیشت کا طرہ امتیاز ہے جو حکومت کے اندر تمام سیاسی کشمکش کے باوجود ثابت قدم رہی ہے۔ اس پس منظر میں، مشاہدہ کرنے والا کوئی نقاد ‘انصاف’ کے متعلق حالیہ نعروں کی تشریح برسر اقتدار طبقہ اشرافیہ میں اقتدار اور سرمائے کی تقسیم نو کے طریقوں سے کچھ ہی زیادہ کر پائے گا۔  

اس قسم کی منصوبہ بندی کے سامنے، یہ بات حیران کن نہیں کہ غریب ابھی تک اس وقت کے منتظر ہیں جب حکومت ان کی بنیادی ضروریات کو ترجیح دے گی۔  

علی معظمی تہران میں مقیم ایک صحافی ہیں۔ انٹرویو میں شامل لوگوں کے نام تبدیل کردیے گئے ہیں۔

Post a Comment