Karachi – Pakistan, originally uploaded by babasteve.
January 24, 2008 at 11:31 pm (Uncategorized)
Karachi – Pakistan, originally uploaded by babasteve.
January 24, 2008 at 11:26 pm (International Politics)
اسرائیل لابی نوم چومسکی ZNet، 28 مارچ 2006 مجھے لندن کتابوں پر تبصرہ میں شائع ہونے والے جان میئر شائیمر اور اسٹیفن والٹ (میئر اور والٹ) کے مضمون پر رائے دینے کی بہت سی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جو کہ انٹرنیٹ پر وسیع پیمانے پر گردش کررہا ہے اور اس نے اختلاف رائے کا ایک طوفان بپا کردیا ہے۔ اس مسئلے پر چند افکار مندرجہ ذیل ہیں: جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، یہ ایسے معاملات پر بحث کیلئے امریکی جرائد کے مقابلے میں کہیں آزاد لندن کتابوں پر تبصرہ میں شائع ہوا — جو میئر اور والٹ کے بقول “لابی” کے مبینہ اثر سے متعلقہ معاملہ (جس پر میں بعد میں بات کروں گا) ہے۔ یہودی جریدے فارورڈ میں شائع ہونے والا ایک مضمون میئر کے حوالے سے کہتا ہے کہ اس مضمون کو ایک امریکی جریدے نے تفویض کیا تھا لیکن پھر اسے مسترد کردیا گیا اور یہ کہ “اسرائیل نواز لابی اس قدر طاقتور ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی مصنف اسٹیفن والٹ امریکا میں موجود کسی سائنسی اشاعت میں اپنی رپورٹ شائع نہیں کرا سکتے تھے۔” لیکن انگلستان میں چھپنے کی حقیقت کے باوجود، میئر اور والٹ کے مضمون نے یہاں ریاستی تشدد کے روایتی حمایتیوں، وال اسٹریٹ جرنل سے لے کر ایلن ڈرشووٹز تک، کی جانب سے متوقع انتہائی جذباتی ردعمل کو ابھارا، بعض مرتبہ ایسے کہ اگر مصنفین ایوان اقتدار کی صفوں (جیسا کہ دستور ہے) میں شامل نہ ہوئے تو انہیں فوراً تضحیک کا نشانہ بنایا جائے گا۔ میئر اور والٹ ایسا مؤقف اختیار کرنے پر لائق تحسین ہیں جو یقینی طور پر غیض و غضب اور انتہا پرستانہ جھوٹ اور دشنام طرازی کو ابھارے گا لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ اس میں کوئی غیر معمولی چیز نہیں ہے۔ کوئی بھی موضوع اٹھا لیں جو “آزاد ذہنوں کے ریوڑ” (ہیرولڈ روزنبرگ کے دانشوروں کے بیان سے مستعار لیتے ہوئے) میں صحیفہ مقدس تک جا پہنچا ہو : مثال کے طور پر، جنگ بلقان سے متعلق کوئی چیز جس نے الف سعادت کے اختتام پر، حتٰی کہ تاریخی نظیروں سے بھی آگے جاتے ہوئے، دانشوارانہ استدلال کا حلیہ بگاڑنے والی خود ستائشی کی غیر معمولی مہموں میں ایک بہت بڑا کردار ادا کیا جو انتہائی بدنما ہیں۔ فطری طور پر، ریوڑ کیلئے اپنے بیشتر پر فریب اور جھوٹ پر مبنی تصور کا تحفظ غیر معمولی حد تک اہم ہے۔ لہٰذا، سادہ (غیر متنازعہ، یقیناً متعلقہ) حقائق کو سامنے لانے کی کسی کوشش کو یا تو نظر انداز (میئر اور والٹ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا) کر دیا جاتا ہے یا وہ انتہائی متاثر کن غیض و غضب، تہمتوں، من گھڑت باتوں اور فریب اور دیگر ردعمل کی دعوت دیتا ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ بہت آسان ہے اور صرف ان معاملات تک ہی محدود نہیں ہے۔ وہ جو روایتی نظریے کے تنقیدی جائزے کے تجربے سے محروم ہیں انہیں مشرق وسطٰی کے مخصوص معاملے سے باآسانی گمراہ کیا جاسکتا ہے۔ میئر اور والٹ کے قابل تعریف جرأت مندانہ مؤقف کا اعتراف کرتے ہوئے ہمارا پھر بھی یہ سوال ہے کہ ان کا مقالہ کس قدر قائل کرنے والا ہے۔ میرے نزدیک، زیادہ نہیں۔ میں نے کسی اور جگہ اس بات کا جائزہ پیش کیا ہے کہ امریکہ کی مشرق وسطٰی پالیسی کے بنیادی ماخذین کا ریکارڈ (تاریخی اور دستاویزی دونوں)، گزشتہ 40 برسوں کی کتب اور مضامین، دیکھ کر میں کیا محسوس کرتا ہوں اور میں انہیں یہاں دہرانے کی کوشش نہیں کرسکتا۔ میرے خیال میں لابی کی طاقت کیلئے میئر اور والٹ کا مقدمہ اتنا ہی اچھا ہے جو کسی کا ہوسکتا ہے، لیکن میرا نہیں خیال کہ یہ مجھے ہمیشہ نظر آنے والی ایک بظاہر زیادہ معقول تشریح میں ترمیم کی کوئی وجہ فراہم کرتا ہے۔ ضمنی طور پر غور کریں کہ ایک قدرے نازک معاملہ داؤ پر لگا ہوا ہے: مختلف عوامل کے اثر کا جائزہ جو (سب کے نزدیک) ریاستی پالیسی کا تعین کرنے میں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں: بالخصوص (A) مضبوط ریاستی-تجارتی ربط میں ملکی طاقت کے ارتکازات کے حکمت عملیانہ-اقتصادی مفادات، اور (B) لابی۔ میئر اور والٹ کے مقالے میں (B) کا تسلط حاوی ہے۔ مقالے کو پرکھنے کیلئے، ہمیں دو کافی مختلف معاملات میں امتیاز برتنا پڑے گا جنہیں وہ خلط ملط کرنے کی جانب مائل ہیں: (1) امریکا کی مشرق وسطٰی پالیسی کی مبینہ ناکامیاں؛ (2) ان نتائج میں لابی کا کردار۔ جب تک لابی کے مؤقف (A) کے مطیع ہیں، دونوں عوامل کو ایک دوسرے سے جدا کرنا انتہائی دشوار امر ہے۔ اور اس میں کافی زیادہ اطاعت پائی جاتی ہے۔ آئیے (1) کو دیکھتے ہوئے نمایاں سوال پوچھتے ہیں: گزشتہ 60 برسوں سے پالیسی کس کیلئے ناکام رہی ہے؟ توانائی کا کارپوریشنوں کیلئے؟ بمشکل۔ “انہوں نے حرص کے تصورات سے بھی زیادہ منافع” کمایا ہے (جان بلیئر سے اقتباس جنہوں نے 70 کے عشرے میں اس صنعت میں اہم ترین حکومتی تحقیقات کی قیادت کی)، اور ابھی بھی کما رہی ہیں اور مشرق وسطٰی ان کی مستقل آمدنی کا ایک مرکزی وسیلہ ہے۔ کیا یہ امریکا کی اس کنٹرول پر مبنی عظیم حکمت عملی کی ناکامی رہی ہے جسے 60 برس قبل امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے مشرق وسطٰی کے تیل کی “حکمت عملیانہ طاقت کا پرشکوہ ماخذ” اور اس لاثانی “مادی تحفے” سے حاصل ہونے والی لامحدود دولت کہا تھا۔ بمشکل۔ امریکا نے اپنا ٹھیک ٹھاک اثر و رسوخ برقرار رکھا ہے اور غیر معمولی دھچکے جیسا کہ شاہ کی معزولی لابی کے اقدامات کا نتیجہ نہیں تھے۔ اور جیسا کہ پہلے غور کیا گیا ہے، توانائی کی کارپوریشنوں نے خوشحالی کے ثمرات سمیٹے۔ مزید برآں، ان غیر معمولی کامیابیوں کو بہت سی رکاوٹوں پر قابو پانا پڑا: ابتداً، دنیا میں کسی اور جگہ کی طرح، جسے اندرونی دستاویزات “انتہا پسندانہ قوم پرستی” کا نام دیتی ہیں، اس سے مراد آزاد قوم پرستی ہے۔ دنیا میں کسی اور جگہ کی طرح، ان خدشات کو “سوویت یونین کے خلاف دفاع” جیسی اصطلاحات کی آڑ میں چھپانا آسان رہا ہے لیکن تحقیق پر یہ بہانہ عام طور پر فوری ناکام ہوجاتا ہے، نہ صرف مشرق وسطٰی بلکہ دیگر جگہوں پر بھی۔ اور درحقیقت دعوے کو ، دیوار برلن گرنے کے کچھ ہی عرصے بعد، سرکاری طور پر غلط تسلیم کیا گیا جب بش کی قومی سلامتی کی حکمت عملی (1990) نے مشرق وسطٰی پر مرکوز افواج برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جہاں “ہمارے مفادات کیلئے سنگین خطرات کو ۔۔ کریملن کے در پر قربان نہیں کیے جاسکتا” ۔۔۔ نے اب پہلے کی یکساں پالیسیاں جاری رکھنے کا بہانہ کھو دیا۔ اور یہی چیز کافی حد تک دنیا بھر میں صادق آتی تھی۔ یہ فوراً ہی میئر اور والٹ کے مقالے کے متعلق ایک اور سوال اٹھاتا ہے۔ وہ کون سی “لابیاں” تھیں جو دنیا بھر میں انتہائی مماثل پالیسیاں جاری رکھنے کی ذمہ دار تھیں؟ سال 1958 پر غور کریں، جو کہ عالمی امور میں ایک انتہائی اہم سال تھا۔ 1958 میں آئزن ہاور انتظامیہ نے امریکا کیلئے تین چیلنجوں کے طور پر مشرق وسطٰی، شمالی افریقہ اور انڈونیشیا کی نشاندہی کی — یہ سب تیل پیدا کرنے والے اسلامی ممالک تھے۔ الجزائر کی (باضابطہ) آزادی نے شمالی افریقہ کا مسئلہ حل کردیا۔ انڈونیشیا میں سوہارتو کی قتل و غارت گری (1965) اور مشرق وسطٰی میں اسرائیل کے ہاتھوں عرب لادینی قوم پرستی کی تباہی کے ذریعے نمٹ لیا گیا (ناصر، 1967)۔ مشرق وسطٰی میں، اس سے قریبی امریکی اسرائیلی اتحاد کا قیام عمل میں آیا اور 1958 میں امریکی انٹیلیجنس کے ایک فیصلے کی تصدیق ہوگئی کہ “انتہا پسندانہ قوم پرستی” (مراد لادینی آزاد قوم پرستی) کی مخالفت کا “منطقی نتیجہ” “اسرائیل کی حمایت” ہے جیسا کہ خطے میں ایک قابل اعتماد امریکی اڈہ (ترکی کے ساتھ، جس نے اسی برس اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرلیے)۔ سوہارتو کے فوجی انقلاب نے مکمل احساس مسرت جگا دیا اور وہ “اپنا ہی بندہ” رہا (جیسا کہ کلنٹن انتظامیہ نے اسے نام دیا) حتٰی کہ وہ 1998 میں اقتدار پر مزید کنٹرول برقرار نہ رکھ سکا، ایک مکروہ ریکارڈ کے ذریعے جو صدام حسین کے مقابلے میں بہتر ہے — وہ بھی “اپنا ہی بندہ” تھا یہاں تک کہ اس نے 1990 میں احکامات سے رو گردانی کی۔ انڈونیشیا لابی کیا تھی؟ صدام لابی؟ اور سوال دنیا کے گرد عمومی طور پر گھومتا ہے۔ جب تک ان سوالات کا جواب نہ ملے، معاملہ (1) کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ جب ہم (1) کی تحقیق کرتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ مشرق وسطٰی میں جاری امریکی پالیسیاں دنیا میں کسی اور جگہ کی پالیسیوں سے کافی مماثلت رکھتی ہیں اور بہت سی دشواریوں کے باوجود بھی غیر معمولی حد تک کامیاب رہی ہیں: کامیابی کی منصوبہ بندی کیلئے 60 برس ایک طویل مدت ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ بش دوم نے، نہ صرف مشرق وسطٰی بلکہ ہر جگہ، امریکی حیثیت کو کمزور کردیا ہے لیکن یہ ایک بالکل علیحدہ معاملہ ہے۔ یہ (2) پر منتج ہوتا ہے۔ جیسا کہ غور کیا گیا ہے، امریکی اسرائیلی اتحاد نے اس وقت تقویت پکڑی جب اسرائیل نے ملکی ضروریات کی جانب وسائل کا رخ موڑنے کی کوشش کرنے والے لادینی عرب قوم پرستی کے خطرے کو پاش پاش کرتے ہوئے امریکی، سعودی توانائی کمپنیوں کیلئے ایک بڑی خدمت سرانجام دی۔ اسی وقت لابی کو ایک زوردار تحریک ملی (عیسائی انجیلی عنصر کے علاوہ، اب تک کا بہت بڑا اور قابل اعتراض حد تک بارسوخ جزو، لیکن یہ زیادہ تر 90 کے عشرے میں ہوا ہے)۔ اور یہی وہ وقت ہے جب دانشوارانہ-سیاسی طبقے کا اسرائیل سے معاشقہ شروع ہوا، جس سے ماضی میں انہیں کم ہی دلچسپی تھی۔ وہ ذرائع ابلاغ، علمی حلقوں میں اپنے کردار کی وجہ سے لابی کا ایک انتہائی اثر و رسوخ والا جزو ہیں۔ اس مقام کے بعد “قومی مفاد” (لفظ کے حسب معمول منحرف لحاظ سے) کا لابی کے اثرات سے امتیاز دشوار ہوچلا ہے۔ میں نے کسی اور جگہ امریکا کیلئے اسرائیلی خدمات کا مختصر جائزہ پیش کیا ہے اور یہاں اس کا دوبارہ جائزہ نہیں لوں گا۔ میئر اور والٹ کا ارتکاز امریکا کی اسرائیل نواز لابی (AIPAC) اور انجیلی عیسائیت پر ہے لیکن وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ سیاسی دانشوروں کا بیشتر طبقہ بھی لابی میں شامل ہے — اس مقام پر مقالے کا بیشتر مواد دم توڑ دیتا ہے۔ انہوں نے شہادت کا انتہائی منتخب استعمال بھی کیا ہے (اور بہت سی شہادت اپنے اندر قطعیت لیے ہوئے ہے)۔ مثال کے طور پر چین کو اسلحہ کی فروخت ہی لے لیں، جسے وہ امریکی مفادات کو کمزور بنانے کی کوشش کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہ اس بات کا تذکرہ بھول جاتے ہیں کہ جب امریکا نے اس پر نکتہ چینی کی، تو اسرائیل اپنے وعدے سے منحرف ہوجانے پر مجبور ہوگیا: 2000 میں کلنٹن کی زیر صدارت اور دوبارہ 2005 میں، اس معاملے میں واشنگٹن کی نو قدامت پسندوں پر مشتمل حکومت نے تو خلاف معمول اسرائیل کو شرمسار بھی کیا۔ اس معاملے پر لابی کی جانب سے ہلکی سی آواز بھی بلند نہیں کی گئی اگرچہ یہ اسرائیل کیلئے ایک سنگین دھچکا تھا۔ اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں۔ اسرائیلی تاریخ کے بدترین جرم کو ہی لے لیں، اس نے 1982 میں لبنان پر حملہ کیا جس کا مقصد لادینی قوم پرست پی ایل او کی تباہی اور سیاسی تصفیے کیلئے اس کے خجالت آمیز مطالبات کے خاتمے اور ایک زیر کفالت میرونی حکومت کا قیام تھا۔ ریگن انتظامیہ نے بدترین مظالم کے دوران بھی حملے کی مکمل حمایت کی لیکن چند ماہ بعد (اگست)، جب مظالم نے اتنی شدت اختیار کرلی کہ بیروت میں مقیم نیویارک ٹائمز کے نامہ نگار تھامس فرائیڈمین کو بھی ان کی شکایت کرنا پڑی اور ان سے امریکی “قومی مفاد” کو زک پہنچنا شروع ہوگئی تو ریگن نے اسرائیل کو حملہ روکنے کا حکم دیا پھر لبنان سے پی ایل او کا خاتمہ مکمل کرنے کیلئے داخل ہوا، ایک ایسا نتیجہ جو اسرائیل اور امریکہ دونوں کیلئے انتہائی قابل ستائش (اور آزاد قوم پرستی کی عام امریکی مخالفت سے ہم آہنگ) تھا۔ اس کا نتیجہ مکمل طور پر امریکا اسرائیل کے حسب منشاء تو نہ تھا لیکن یہاں متعلقہ مشاہدہ یہ ہے کہ ریگن کے معتقدین نے اس وقت حملے اور مظالم کی حمایت کی جب یہ مؤقف “قومی مفاد” کیلئے سازگار تھا اور اس وقت اسے ختم کردیا جب یہ مزید سازگار نہ رہا (پھر وہ مرکزی کام ختم کرنے کیلئے داخل ہوگئے)۔ یہ کافی معمول کی چیز ہے۔ ایک اور مسئلہ جو میئر اور والٹ کی عدم توجہی کا شکار ہوا وہ توانائی کی کارپوریشنوں کا ہے۔ امریکی سیاسی زندگی میں ان سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا — بش انتظامیہ میں شفاف لیکن درحقیقت ہمیشہ سے۔ وہ لابی کے سامنے اتنے کمزور کیسے ہو سکتے ہیں؟ جیسا کہ مشرق وسطٰی کے عالم اسٹیفن زیونس نے درست جانب اشارہ کیا ہے، “خلیج فارس کے خطے میں ہونے والے واقعات سے امریکہ کی اسرائیل نواز لابی [یا عام طور پر لابی] کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور مفادات کو دلچسپی ہے، جیسا کہ تیل کی کمپنیاں، اسلحہ کی صنعت اور دیگر خصوصی مفادات جن کا اپنی لابیوں کے ذریعے اثر و رسوخ اور سیاسی مہم میں دیے جانے والے چندے لاف زن صیہونی لابی اور کانگریسی دوڑ میں عطیہ دینے والے اس کے اتحادیوں سے انتہائی سبقت لے جاتے ہیں۔” کیا توانائی کی کارپوریشنیں اپنے مفادات کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہیں، یا وہ بھی لابی کا جزو ہیں؟ اب تک، حاشیوں کے علاوہ (1) اور (2) کے درمیان کیا امتیاز ہے؟ ایک چیز کی دوبارہ وضاحت کی جاتی ہے کہ امریکا کی مشرق وسطٰی پالیسی اس کی دیگر جگہوں پر پالیسی سے کیوں مماثلت رکھتی ہے — جس میں اتفاق سے اسرائیل نے اہم کردار ادا کیا ہے، مثلاً انتظامیہ کو وسطی امریکا میں وسیع پیمانے پر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کیلئے کانگریسی رکاوٹوں سے گریز میں مدد دینا، جنوبی افریقہ اور رہوڈیشیا کے خلاف پابندیوں سے گریز، اور بہت کچھ۔ دوبارہ یہ سب (2) کو (1) سے جدا کرنا زیادہ دشوار بنا دیتا ہے — آخر الذکر، فطری طور پر، دنیا بھر میں کافی حد تک یکساں رہا ہے۔ میں دیگر دلائل کا مختصر جائزہ پیش نہیں کروں گا لیکن میرا نہیں خیال کہ معائنہ کرنے پر ان میں کوئی جان ہے۔ تاہم میئر اور والٹ کے پیش کردہ مقالے میں کافی کشش ہے۔ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اشرافیہ کی اوج ثریا، “ولسن کا فلسفہ تصوریت” وغیرہ، میں امریکی حکومت کو چھوئے بغیر گزر جاتا ہے، ، صرف ایک مکمل طاقتور قوت کی گرفت میں جس سے وہ بچ نہیں سکتا۔ یہ تو گزشتہ 60 برس کے جرائم کو “سرد جنگ کے مبالغہ آمیز سراب” سے منسوب کرنے کے مترادف ہے۔ یہ آسان ہے لیکن زیادہ قائل کرنے والا نہیں۔ کسی بھی صورت میں۔ ![]()
December 26, 2007 at 6:47 pm (Pictures)
National Monument (Pakistan), originally uploaded by usamabhatti.
December 26, 2007 at 6:14 pm (International Politics)
نیا انقلاب فرانس
یہ تھیچر کے احیائے برطانیہ کے بعد یورپ کی سب سے بڑی کایا پلٹنے کا آغاز ہوسکتا ہے۔
آپ فرانس میں تبدیلی کا اندازہ خطابات کے استعمال سے لگا سکتے ہیں۔ دس برس قبل، فرانسیسیوں نے امریکی “طاقت کاملہ” کے خلاف آواز احتجاج بلند کی تھی۔ انہوں نے دنیا سے اچاٹ نقادوں کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک جانب بیٹھ کر امریکی طاقت، قطعیت اور سرگرمی کو ہدف تنقید بنایا۔ آج فرانسیسی وہی خطاب استعمال کرتے ہوئے اپنے “صدر کاملہ”، نکولس سرکوزی، کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے اپنی طاقت، قطعیت اور سرگرمی سے تمام فرانس پر سحر طاری کر رکھا ہے۔ حتٰی کہ وہ اب تک کے انتہائی غیر معمولی چیلنج میں بھی کامیابی حاصل کرتے نظر آتے ہیں جو کہ ملک کی ہڑتالی ٹرانسپورٹ یونینوں سے مقابلہ ہے۔ اگر وہ اس میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں تو یہ 1980 کے عشرے میں مارگریٹ تھیچر کے احیائے برطانیہ کے بعد یورپ کی سب سے بڑی کایا پلٹنے کا آغاز ہوسکتا ہے۔
اپنے خلاف پائے جانے والے غلط تاثر کے برعکس، فرانسیسی معیشت کو مکمل بحالی کی ضرورت نہیں۔ اس میں بہت سے اعلٰی مسابقتی پہلو ہیں۔ حاصل محنت امریکہ ہی کی طرح بلند ہے، صحت کی دیکھ بھال کا نظام شاندار اور لاگت کے لحاظ سے سود مند ہے اور برق رفتار ریل سے لے کر براڈ بینڈ تک فرانسیسی بنیادی ڈھانچہ لاثانی ہے۔ لیکن فرانسیسی کارکنوں کو ضرورت سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے والا ایک مجموعہ قوانین معیشت کو سرطان کی طرح کھا رہا ہے جس کے تحت بھرتی اور برطرفی کٹھن اور پنشنیں اور فوائد انتہائی گراں بن جاتے ہیں۔ (یہی وجہ ہے کہ فرانس میں مستقل بنیادوں پر بے روزگاری کی بلند شرح ہے، فی الوقت 8.7 فی صد، جو کہ صنعتی اقوام کی اوسط سے 50 فی صد بلند ہے۔) اگر فرانس نے محنت کی لچک کے ذریعے اپنے مسائل حل کر لیے تو بلند نمو اور کم بے روزگاری کے باعث یہ پیش رفت کر سکتا ہے جس سے پورا نظام کہیں زیادہ پائیدار ہوجائے گا۔ فرانس کی آئندہ نسلیں طویل کھانے کے وقفوں اور لمبی تعطیلات سے پھر بھی مستفید ہوتی رہیں گی۔
سرکوزی نے اپنی لڑائی کا انتخاب دانش مندی سے کیا ہے۔ ان کی مجوزہ اصلاحات مقبول ہیں کیونکہ ان کا ہدف، فرانس کے ریلوے یونین کارکن، ان فوائد سے مستفید ہوتے ہیں جو فرانس کے دیگر شہریوں کیلئے قابل رشک ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے فوائد 50 برس کی عمر سے شروع ہو سکتے ہیں۔ ان کا تعین حکومت نے دخانی انجن کے زمانے میں کیا تھا جب متوقع عمر کافی کم تھی اور بیلچے سے کوئلہ انجن کے بوائلر میں ڈالنے کا کام زیادہ خطرناک تھا۔ دیگر سرکاری ملازمین کا خیال ہے کہ یہ لڑائی علامتی ہے۔ اگر سرکوزی اس مخصوص یونین کو توڑ لیں تو اس سے مزید اصلاحات کا ایک سیلاب آجائے گا۔ ان کا کہنا درست ہے۔
یونینیں پہلے بھی کئی مرتبہ جیت چکی ہیں۔ لوگ اب بھول چکے ہیں لیکن 1995 میں برسر اقتدار آنے والے، فرانسیسی سیاست دانوں میں سے قدامت پسند ترین، یاک شیراک نے فرانسیسی معیشت کی حالت بہتر بنانے کا پختہ عزم بہت سے انہی خطوط پر کیا تھا جو سرکوزی تجویز کررہے ہیں۔ ان کے تین وزرائے اعظم نے ان منصوبوں کو آگے بڑھایا، 1995میں ایلائن یوپے نے، 2003 میں ژان پیری رافارن نے اور 2005 میں ڈومینک ڈی ولاپاں نے۔ ہر بار انہیں کاروبار زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دینے والی ہڑتالوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں حکومت نے کچھ استقامت کا مظاہرہ کیا۔ “سڑکوں پر اظہار رائے کا حق ہونا چاہیے،” رافارن نے 2003 میں اعلان کیا، “لیکن سڑکوں پر اظہار رائے سمت متعین نہیں کر سکتا۔” لیکن حقیقت میں کچھ یوں ہی ہوا۔ تینوں مرتبہ، اصلاحات کے منصوبوں کو ترک کردیا گیا۔
سڑکوں پر اظہار رائے فرانس کی پانچویں جمہوریہ میں ایک عجیب عنصر ہے جو کہ نظام کا کافی مضبوط جزو ہے۔ چارلس ڈیگال نے ایک سیاسی نظام تخلیق کیا جسے اس نے ایک “منتخب بادشاہت” قرار دیا۔ صدارتی اختیارات پر چند ایک ہی قدغنیں ہیں۔ وزیراعظم کا عہدہ کلیدی صدارتی مشیروں سے غیر معمولی حد تک کم اہمیت کا حامل ہے اور پارلیمان ایک مذاق ہے۔ حقیقی مباحثہ، حزب اختلاف اور صدر کے اختیارات میں توازن سڑکوں پر اظہار رائے سے آتا ہے اور اس طرح یہ فرانسیسی انداز سیاست کا جزو بن چکا ہے، وہ جسے عوام جانتے اور تسلیم کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ صدر کا میلان اس حقیقت پر ہے کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور ایک دفعہ سڑکوں کے خلاف محل کا ساتھ دیں گے۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ ان کا سوچنے کا انداز درست ہے۔ عوامی ہمدردی ہڑتالیوں کے ساتھ نہیں ہے۔ سیاست میں ہر چیز موقع کی مناسبت سے ہوتی ہے اور نکولس سرکوزی کا سب سے بڑا امتیاز غالباً یہ ثابت کرسکتا ہے کہ ان کی آمد درست لمحے پر ہے۔
اگر وہ اس لڑائی کو جیت لیتے ہیں تو سرکوزی اصلاحات کے ایک سلسلے کو آگے بڑھائیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر منتج ہوگا۔ ان تبدیلیوں کا مجموعی اثر مثبت طرز فکر کی ایک لہر کی صورت میں نکل سکتا ہے جو کہ خود اپنی ذات میں ملکی معیشت کیلئے انتہائی مفید ہے۔ فرانس نئی عالمگیر معیشت پر برہمی کا اظہار کرنے کی بجائے آگے بڑھ کر اس کو گلے لگا لے گا۔
امریکن انٹرسٹ جریدے کی تازہ اشاعت کے ایک مضمون میں، بروکنگز کے اسکالر فلپ گورڈن لکھتے ہیں کہ سرکوزی فرانس کو دنیا میں ایک بڑا کھلاڑی بنا سکتے ہیں، “اپنی قد و قامت سے بڑے سے مقابلہ،” جس طرح ٹونی بلیئر نے 1990 کے عشرے اور 2000 کے ابتدائی برسوں میں کیا۔ بلیئر اور ان سے قبل تھیچر برطانیہ کا ایک نیا تصور تخلیق کرنے میں کامیاب رہے اور انہوں نے ملک کو ایک جدید عالمی قوت بنا دیا۔ لیکن اس تبدیلی کا دارومدار برطانوی معیشت کے احیاء پر تھا جو کہ عالمگیر زمانے میں کامیابی کی علامت بن گئی۔ فرانس عالمی اقتصادی فورم کی سالانہ مسابقتی درجہ بندی میں اس وقت 18ویں نمبر پر ہے۔ یہ اتنا برا نہیں لیکن یہ دور دور تک اس جگہ کے مطابق نہیں جو فرانسیسی دنیا میں اپنے لئے تصور کرتے ہیں۔
امریکی مبصرین سرکوزی کے امریکہ نواز خیالات اور بیانات سے خوش ہیں۔ لیکن یہ مشکل مرحلہ کبھی نہ تھا۔ فرانس درحقیقت اتنا بھی امریکہ مخالف نہیں۔ یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک وفادار اتحادی ہے۔ سرکوزی جو کچھ اب کررہے ہیں وہ سچ مچ دشوار ہے۔ اگر وہ کامیاب ہوجاتے ہیں، تو اس سے مراد نہ صرف ایک نیا فرانسیسی امریکی رشتہ بلکہ ایک نیا فرانس بھی ہوگا۔
December 26, 2007 at 5:53 pm (International Politics)
سراب
محمود احمدی نژاد کی انتخابی مہم کے دوران غریبوں سے ہر طرح کے وعدے کیے گئے۔ تو کیا ان کے خیال میں وہ انہیں پورا کر رہے ہیں؟ علی معظمی کا جنوبی تہران کے پسماندہ اضلاع کا دورہ۔
“یہ مسائل، معاملات ہمارے ہیں ۔۔۔ لیکن وہ انہیں سیاست کا نام دیتے ہیں۔’ میسری خاندان نے کاروبار میں سرمایہ کاری کی غرض سے جنوبی تہران کے نواح میں اپنا گھر فروخت کردیا جسے انہوں نے دو عشروں کی جدوجہد کے بعد خریدا تھا۔ وہ اس امید پر کرایہ دار بن گئے کہ ہوسکتا ہے میسری صاحب کارخانے کے مزدور کی بجائے اس طرح زیادہ کمالیں۔ 39 سالہ بیگم میسری نے مجھے بتایا: ‘کاروبار کے حالات بہت خراب ہیں۔ بازار چینی ساختہ ارزاں اشیاء سے بھرے پڑے ہیں ۔۔۔ ان کی آمدنی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ہمیں مختلف قرضوں کی ادائیگی کرنا ہے۔ ہمیں روز مرہ کی زندگی گزارنے میں مشکل کا سامنا ہے۔ میرے شوہر کے اعصاب رات کو جواب دے جاتے ہیں – وہ کہتے ہیں “کاش میں مر جاؤں”۔’
گزشتہ صدارتی انتخاب میں محمود احمدی نژاد کی کامیابی کا سہرا ایسے ہی محروم افراد کے معاشی حالات کو بہتر بنانے کے انتخابی وعدوں کے سر جاتا ہے۔ جب سے انہوں نے اقتدار سنبھالا ہے، ان وعدوں کا خلاصہ ایک گھر کی خریداری کیلئے 1 کروڑ تومان (تقریباً $10,000) قرضے اور ‘منصفانہ حصص’ کی صورت میں نکلا ہے۔ جنوبی تہران ہی کی ایک رہائشی 44 سالہ بیگم احمدی ہیں۔ ان کے بیٹے نے 1 کروڑ تومان کا گھر کا قرضہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے: ‘میرے بیٹے کے سسر معذور سابقہ فوجی ہیں اور حال ہی میں ان کا نام قرعہ اندازی میں نکلا لیکن آپ کو قرض کا اہل بننے کیلئے ایک نو تعمیر شدہ گھر خریدنا پڑتا ہے۔ اور جب گھر نیا ہو تو اس کی قیمت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ قرض کی رقم اس کیلئے ناکافی ثابت ہوتی ہے۔’ انتخاب کے بعد سے گھروں کی قیمتوں میں اضافے نے سرکاری قرضہ جات کی اہمیت گھٹا دی ہے کیونکہ جنوبی تہران میں پرانا گھر بھی $40,000 سے کم نہیں ملتا (تہران کے امیر شمالی حصے میں، اپارٹمنٹوں کی قیمت $8,000,000 تک پہنچ جاتی ہے)۔
‘منصفانہ حصص’ اسکیم میں سرکاری زیر انتظام کمپنیوں کے حصص غریبوں میں تقسیم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ایرانی ماہرین اقتصادیات کی تنقید کے باوجود، اسکیم بیشتر لوگوں کیلئے امید کی کرن بن چکی ہے۔ 70 سالہ غوربان علی صوبہ خراسان کے ایک گاؤں کے باشندے ہیں جہاں اس اسکیم پر آزمائشی بنیادوں پر کام ہورہا ہے اور وہ تہران میں اپنی اپنی بیٹی سے ملنے آئے ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے احمدی نژاد کو ووٹ دیا تھا۔ ‘ہم نے ابھی تک رقم جیسی چیز نہیں دیکھی! انہوں نے ہر فرد کو 500,000 تومان ($500) دینا تھے لیکن ہم نے اس کے بعد کچھ نہیں سنا۔’
غوربان علی ناخواندہ ہیں اور اسی لئے سرکاری ذرائع ابلاغ کی تشہیر ان کی نظر سے نہیں گزری۔ وہ اخبارات میں یہ پڑھنے سے قاصر ہیں کہ حصص کم منافع بخش سرکاری ملکیتی صنعتوں میں ہیں، وہ مفت ملنے کی بجائے ادائیگی کے متقاضی ہیں (البتہ طویل مدت میں رعایتی شرح پر) اور انہیں کم از کم چار برس تک فروخت نہیں کیا جاسکتا۔
غوربان علی بیمار اور لاچار ہیں اور سرکاری شعبے کے سب سے بڑے ریاستی خیراتی ادارے (قومی امداد امام خمینی (امام خمینی ریلیف کمیٹی) کی زیر نگرانی ہیں جو خط غربت سے نیچے تقریباًچالیس لاکھ افراد کو سماجی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ لیکن وہ قومی امداد کی پیش کردہ مدد سے مطمئن نہیں۔ انہیں 2005 میں خراسان میں آنے والے زلزلے کے بعد وعدہ کی گئی تزئین و آرائش کی گرانٹ تاحال نہیں ملی اور نوکر شاہی کی غفلت کے باعث انہیں اپنی صحت کی سہولیات سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔
غوربان علی سرکاری وعدوں پر عدم اعتماد کرنے میں تنہا نہیں۔ صدر احمدی نژاد حالیہ مہینوں میں افراط زر کی غیر معمولی شرح پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ سرکاری سطح پر افراط زر کا تخمینہ 12 فی صد کے قریب لگایا جاتا ہے لیکن غیر سرکاری تخمینے اسے دوگنا بتاتے ہیں۔ اس سے احمدی نژاد کے کئی سابقہ حمایتیوں کا جوش انتہائی ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔
54 سالہ بیگم سرھنگی جنوبی تہران کی ایک گارمنٹ فیکٹری میں کام کر کے معمولی گزر بسر کر رہی ہیں۔ ‘میں نے اپنے خاندان کی مخالفت کے باوجود احمدی نژاد کو ووٹ دیا تھا،’ انہوں نے بتایا۔ ‘میرا کہنا تھا کہ وہ باقیوں سے مختلف ہیں لیکن اب میں دیکھتی ہوں کہ کچھ بھی تو نہیں بدلا۔’ انہوں نے طنزیہ انداز میں مزید کہا: ‘احمدی نژاد کے نعرے میں محروم لوگوں کیلئے کچھ کرنے کا وعدہ تھا۔ انہوں نے محروم افراد کیلئے اتنا کچھ کردیا ہے کہ اب ہمیں 30 تومان میں ملنے والا انڈہ 100 تومان میں خریدنا پڑتا ہے!’ انہیں ایسے بہت سے وعدے یاد ہیں: ‘انقلاب کے آغاز سے ہی انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہمیں گھروں کی ملکیت دیں گے؛ 27 برس بعد ہم تاحال اس وعدے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔’
پولیس کا وحشیانہ پن
لوگوں کو ریاستی اداروں میں تشدد اور بدعنوانی سے نمٹنے کے وعدوں پر اسے سے بھی کم اعتماد ہے اور یہ مسائل جنوبی تہران کے گرد و نواح میں بالخصوص عام ہیں۔ بیگم محسنی کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں منشیات فروش، جن کے خلاف انہوں نے شکایات درج کرائی ہیں، اہلکاروں کو کھلم کھلا رشوت دیتے ہیں۔ دریں اثناء، بیگم میسری پولیس کے وحشیانہ پن کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں: ‘میں نے اکثر پولیس کی جانب سے نوجوانوں پر وحشیانہ تشدد کا مشاہدہ کیا ہے۔ ایک بار میرے اپنے بیٹے نے پرائمری اسکول سے گھر لوٹتے وقت ایک ہمسائے کو پولیس کے ہاتھوں پٹتے دیکھا؛ [میرا بیٹا] اتنا دہشت زدہ ہوگیا کہ رونے لگا۔ میرے منشیات کے عادی سگے بھائی کو ایک رات گرفتار کرلیا گیا اور انہوں نے اس پر اتنا تشدد کیا کہ اس کے سر کی ہڈی چٹخ گئی۔
یہ صرف پولیس کی جارحیت ہی نہیں جو گراں گزرتی ہے بلکہ اسکول کے بچوں کو بھی روز مرہ بنیادوں پر مسلسل توہین اور جسمانی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں نے جتنی بھی خواتین کا انٹرویو کیا یا تو ان کا اپنا بچہ یا کوئی اور جاننے والا بچہ غیر مؤثر تدریس اور درشت ماحول سے مایوس ہو کر اسکول سے بھاگ گیا۔ ان سب کا یہ خیال ہے کہ جنوبی تہران کے اسکول ناکافی تدریسی عملے کی غلاظت گاہ ہیں۔
‘احمدی نژاد کے نعرے میں محروم افراد کیلئے کچھ کرنے کا وعدہ تھا۔ انہوں نے محروم لوگوں کیلئے اتنا کچھ کردیا ہے کہ اب ہمیں 30 تومان میں ملنے والا انڈا 100 تومان میں خریدنا پڑتا ہے!’
تاہم شہر کے اس حصے میں تمام بچے اتنے خوش قسمت نہیں کہ ان کے والدین ان کی تعلیم کے متعلق فکر مند ہوں اور ان کیلئے امکانات روشن کرنے کے طریقے تلاش کریں۔ میں نے ایک بالغ نوجوان علی کا انٹرویو کیا جو ردی کاغذ چنتا ہے اور اپنے گاہکوں کو فروخت کرنے کیلئے پلاسٹک یا ‘کسی کارآمد چیز’ کی تلاش میں شمال سے جنوب تک اس شہر کی خاک چھانتا پھرتا ہے۔ وہ اور اس کا چھوٹا بھائی موسم کے لحاظ سے دیگر بہت سے کام بھی کرتے ہیں۔ لیکن بہترین مہینوں میں بھی وہ 100,000 تومان (تقریباً $100) سے زیادہ نہیں کما پاتے۔
علی اپنے باپ کے متعلق بات کرنے سے گریزاں ہے جو کئی برسوں سے بیروزگار اور ہیروئن کے نشے کا عادی ہے۔ اس کا باپ کئی کئی دن تک گھر سے باہر نہیں نکلتا اور بعض اوقات انہیں دنوں تک اس کی خبر نہیں ہوتی۔ وہ اپنے بچوں اور اپنی بیوی کی قلیل آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں کرتا۔ اس کی بجائے، کئی مرتبہ وہ زبردستی ان سے پیسے ہتھیا لیتا ہے۔ علی جیسے بالغ نوجوانوں کو یا تو کبھی اسکول جانے کا موقع نہیں ملا یا انہیں اسے روزی کمانے، ردی کاغذ چننے، خوانچہ لگانے اور چوری چکاری کیلئے چھوٹی عمر میں ہی خیر آباد کہنا پڑتا ہے۔
مذہب کی اہمیت
جن لوگوں کا میں نے انٹرویو کیا وہ اپنی ‘خواہشات’ کے متعلق بات کرتے ہوئے ‘سماجی مسائل’ کے متعلق حکومت کے سرکاری بیان کا ذکر نہیں کرتے۔ میں نے انہیں بتایا کہ حکومتی نقطہ نظر سے ‘اسلام کا احساس’ اتنی ہی ترجیح ہے جتنا کہ مالی وعدے۔ ‘ہم سب مسلمان ہیں؛ کوئی بھی اسلام سے مایوس نہیں،’ بیگم سرھنگی نے کہا۔
دوسری جانب بیگم احمدی نے بتایا کہ ان کا ایک بیٹا ملازمت کی تلاش میں کافی خاک چھاننے کے بعد اس مرحلے پر پہنچا جہاں اسے ‘نظریاتی تقرری’ کا امتحان دینا تھا۔ ایک عام مسلمان کی حیثیت سے اس نے ایک مہینہ دینی نصاب کے مطالعے پر صرف کیا اور جب وہ امتحان میں ناکامی کے بعد واپس لوٹا تو اس نے بتایا کہ اس نے نصاب میں شامل مسائل کے متعلق اپنی پوری زندگی پڑھا سنا نہیں تھا۔
میں نے جنوب مغربی تہران کے شہر نعمت آباد میں ایک 38 سالہ خوانچہ فروش جہانگیر سے پوچھا کہ حکومت سے ان کی کیا توقعات ہیں۔ جہانگیر جنہوں نے احمدی نژاد کو ووٹ دیا تھا، مجھے بتایا: ‘انہیں بیروزگاری کے مسئلے پر قابو پانے کا منصوبہ لانا چاہیے۔’ اور کیا؟ ‘میری سب سے بڑی بیٹی 14 سال کی ہے ۔۔۔ ہمارے بچے کمپنی ڈائریکٹروں کے بچوں کو دیکھتے ہیں اور وہ ہم سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ ہم انہیں وہی چیزیں لا کر دیں جو ان کے بچوں کے پاس ہیں ۔۔۔ انہیں کچھ کرنا چاہیے تاکہ میرا بچہ بھی تعلیم جاری رکھ سکے۔’
میں نے انہیں بتایا کہ بعض افراد ‘اسلام کے نفاذ’ کی خواہش رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مکمل حجاب کی پاسداری نہ کرنے والوں کو روکا جائے۔ انہوں نے سختی سے جواب دیا: ‘ہاں آپ کو حجاب کرنا چاہیے۔۔۔ اگر کوئی حجاب کے بغیر آئے تو میری بیٹی اسے دیکھے گی اور اس کی نقل کرنا چاہے گی۔ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے۔’
میں نے یہی سوالات بیگم میسری سے کیے: ‘اسلام؟ میں اسلام کے نفاذ کے حامیوں سے پوچھنا چاہتی ہوں؛ آپ اس بات کی کیسے وضاحت کریں گے کہ آپ نے جو وعدے کیے وہ پورے نہ کیے؟ کیا اسلام کا مطلب بے ایمانی ہے؟’
نجکاری اور اقتدار
ان لوگوں کے خدشات معمولی ہوسکتے ہیں لیکن وہ انتہائی ‘سیاسی’ نوعیت کے ہیں اور سیاسی لحاظ سے سب سے اہم چیز روزگار کے معاملات کا ذہن پر چھایا ہونا ہے۔ مسعودی جو ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں، نے اس بارے میں مزید بتایا۔ ان کے حکومتی آجر نے ان کی یونین کی سرگرمیوں کے باعث انہیں ملازمت سے فارغ کردیا۔ ‘ملک میں حکومت سب سے بڑی آجر ہے اور لوگوں کے روزگار کی شرائط متعین کرتی ہے۔۔۔ لیکن اب ہم نجکاری اور سرکاری ڈویژنوں کو کو آپریٹو میں تبدیل کرنے کے متعلق سن رہے ہیں۔ صرف یہی دیکھ لیں کہ تہران میں سرکاری طور پر چلنے والی ٹرانسپورٹ کو کیسے کو آپریٹو میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ ان نجی کو آپریٹو اداروں کے بانی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ٹرانسپورٹ اداروں کے حکام ہیں۔’
اس فوری فروخت کے نتیجے میں، نجی شعبے کی کئی کمپنیوں کی بسوں کی قیمتوں میں 500 فی صد سے بھی زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ مزید برآں، ایران کی اس مخصوص قسم کی نجکاری میں خلاف قیاس یہ چیز ہے کہ یہ نہ صرف عام لوگوں کیلئے مصیبت ہے، جیسا کہ عام طور پر ہر جگہ ہوتا ہے، بلکہ یہ برسر اقتدار امراء شاہی کی معاشی قوت کو بھی استحکام بخشتی ہے۔
اور یہ، بہرحال، اسلامی جمہوریہ کی سیاسی معیشت کا طرہ امتیاز ہے جو حکومت کے اندر تمام سیاسی کشمکش کے باوجود ثابت قدم رہی ہے۔ اس پس منظر میں، مشاہدہ کرنے والا کوئی نقاد ‘انصاف’ کے متعلق حالیہ نعروں کی تشریح برسر اقتدار طبقہ اشرافیہ میں اقتدار اور سرمائے کی تقسیم نو کے طریقوں سے کچھ ہی زیادہ کر پائے گا۔
اس قسم کی منصوبہ بندی کے سامنے، یہ بات حیران کن نہیں کہ غریب ابھی تک اس وقت کے منتظر ہیں جب حکومت ان کی بنیادی ضروریات کو ترجیح دے گی۔
علی معظمی تہران میں مقیم ایک صحافی ہیں۔ انٹرویو میں شامل لوگوں کے نام تبدیل کردیے گئے ہیں۔